سیلف میڈ کامیابی سے تکبر سے شرک سے فرعون اور نمرود تک  کا ہمارا فلسفہ  

ڈاکٹر صاحب سے چائے کے دوران باتیں کرتے وٹس ایپ پر ایک مضمون میری نظر سے گزرا. “سیلف میڈ” نام سے اچھا لگا تو انہیں بھی سنانا شروع کر دیا.

لکھاری( نام نہیں لکھا تھا) کی پریشانی یہ ہے کہ کامیاب لوگ تنہا مرتے ہیں اور انکے بزرگ اسکی وجہ بتاتے ہیں کہ سیلف میڈ لوگ تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں جو کہ فرعون اور نمرود میں تھا اور نتیجہً وہ شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں. مذہبی معاشروں میں دنیاوی کامیابی کے بارے میں یہ خیالات عام ہیں. 

مضمون سن کر کچھ دیر ڈاکٹر صاحب خاموشی سے مسکراتے رہے پھر بولے، 

یہ چائے بہت اچھی تھی کس نے بنائی. میں نے خوش ہو کر جواب دیا کہ میں نے بنائی. کہنے لگے کہ آپ جانتی ہیں کہ آپ نے نے شرک کیا ہے؟ آپ اللہ کی توفیق کے بغیر اچھی چائے کیسے بنا سکتی ہیں. یہی تو دراصل تکبر اور فرعونیت ہے جسکی آپ مرتکب ہوتی چلی جا رہی ہیں. کہیں کہ اللہ کی توفیق سے میں نے چائے بنائی. 

میں سمجھ گئی.

رات کے کھانے کا وقت ہوا چاہتا تھا. اللہ کی توفیق سے میں اٹھی. اللہ کی توفیق سے چاول نکالے اور دھوئے. اللہ کی توفیق سے بریانی بنائی. اسکے ساتھ اللہ کی توفیق سے سلاد اور رائتہ بھی بنایا. اللہ کی توفیق سے شوہر اور بچوں کو کھانے کی ٹیبل پر بلایا. رائتہ اور سلاد تو ٹھیک تھا مگر اللہ کی توفیق سے بریانی میں میں نے ہری مرچیں بہت زیادہ ڈال دیں تھیں. بچے ناراض ہوئے تو میں نے کہا میرا کیا قصور؟ اللہ کی توفیق سے بریانی خراب ہو گئی. پھر ہم نے اللہ کی توفیق سے رات والے کدو کھائے. میں سمجھ گئی کہ قسمت میں کھانا تو کدو ہی تھا تو کامیاب بریانی بنانے کی دوبارہ کوشش نہ ہی کی جائے. 

کچھ مومن میری باتوں پر لال پیلے ہو رہے ہوں گے. ہمارا مذہبی طبقہ جب دنیاوی کامیابی، ترقی، جدیدیت کا براہ راست تعلق تکبر شرک کفر فرعون اور نمرود سے ملا دے گا تو ہماری گفتگو کچھ ایسی ہی ہو جانی چاہیے. کیا پتا کب کفر کا فتوی لگ جائے. ہم بچپن سے دنیاوی کامیابی کے ممکنہ نقصانات سے آگاہ ہوتے چلے آئے ہیں اسی لیے بطور قوم ہم نے کامیابی کا چانس ہی نہیں لیا.

 ہم میں سے کچھ نا سمجھ سمجھے تھے کہ خرابی کا راستہ “تکبر” سے شروع ہو کر شرک فرعونیت نمرودیت اور پھر بھیانک انجام تک پہنچتا ہے. مگر کانسپٹ واضح ہوا کہ خرابی کا راستہ “کامیابی” سے شروع ہوتا ہے پھر تکبر آتا ہے پھر فرعونیت وغیرہ وغیرہ. 

پھر بات مزید واضح ہوئی کہ دراصل سیلف میڈ کامیابی میں خرابی ہے. کچھ لوگوں کو گھر جائیداد وراثت میں ملتا ہے اور کچھ لوگ اپنی محنت لگن سے بناتے ہیں. ان لوگوں کو سیلف میڈ کہا جاتا ہے. یہ محض ایک لفظ ہے جو کسی محنتی انسان کی ترقی کا پس منظر بتاتا ہے. 

ایک تو یہ کہ اب ان میں سے کچھ لوگ تکبر کا شکار ہو جائیں تو اس میں سیلف میڈ لوگوں کا کیا دوش. اور اگر لکھاری یہ کہہ رہے ہیں کہ تمام سیلف میڈ تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ سیلف میڈ تو ہونا ہی نہیں چاہیے. اور اگر لفظ “سیلف میڈ” پر اعتراض ہے تو بریانی میں اللہ کی توفیق سے ہی زیاد ہری مرچیں پہنچیں کیونکہ بریانی میں نے سیلف میڈ تو کی ہی نہیں. وہ تو اللہ نے “میڈ” کی تھی. 

بل گیٹس سیلف میڈ ہے. اسکی محنت لگن سمجھداری رنگ لائی. ظاہر ہے کہ ذہانت تو اسے اللہ سے ہی ملی مگر پھر بھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ بل گیٹس کا کیا کمال؟ اسے تو سب بنا بنایا اللہ نے دیا.اسکا مطلب ہے کہ آپکا بیٹا اپنی محنت لگن سے یونیورسٹی میں ٹاپ کرتا ہے تو اسے کریڈٹ بالکل نہ دیں. شرک ہو جائے گا.

 “میڈ” یا “بنانے” کی خوبی بے شک صرف اللہ کی ہے. مگر انسان کے اندر ذہانت بھی اللہ نے بنائی اور اسے پھر اسے اختیار دیا کہ وہ اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں سے اور چیزیں بنائے اور اپنی زندگی “میڈ” کرے. ایسے فلسفوں کا مطلب بنتا ہے کہ انسان کو اللہ نے نہ کوئی خوبی نہ کوئی کمال اور نہ کوئی اختیار free will دیا. 

اور اگر انسان کا دنیا میں کوئی کمال ہے ہی نہیں پھر تو نبی اور صالحین بھی اپنی وجہ سے نیکوکار نہ تھے. اور اگر رب العزت نے انسان کو کسی قابل بنایا ہی نہیں تو کیسی جنت کیسی دوزخ.

لوگ سیلف میڈ بھی ہوتے ہیں اور سیلف ڈیسٹرکٹیو Self Distructive بھی ہوتے ہیں. 

بات لفظ “تکبر” تک رہتی تو ان کی منطق سمجھ آتی ہے. انسانوں کو انکی محنت کا کریڈٹ تو رب بھی دیتا ہے.

اور اگر تکبر ہی کی بات کی جائے تو جدی پشتی امیروں کو یہ مرض زیادہ لاحق ہوتا ہے. حسن والوں کو، اونچے حسب نسب والوں کو بھی ہو سکتا ہے. میری ناقص سمجھ سے بالکل باہر ہے کہ تکبر اور شرک کا “خصوصی” تعلق سیلف میڈ کامیابی سے ہی کیوں جوڑا جاتا ہے. 

پھر اس مضمون میں لکھاری نے فرعون اور نمرود کے ادوار کی شاندار ترقی اور ٹیکنالوجی کا تفصیلی ذکر کیا ہے. اول تو سیلف میڈ کی مثال فرعون سے دی ہی نہیں جا سکتی. بحرحال ایسا کیوں ہے کہ ہمارے کچھ مذہبی بھائی ہر نئ سائنسی ترقی کو مذہب پر حملہ تصور کرتے ہیں. اور گھما پھرا کر انسانی ترقی کو شرک اور کفر سے کسی نہ کسی طرح جوڑ ہی لیتے ہیں. دنیاوی ترقی انسانی فطرت کا حصہ ہے. اور اسلام کا سائنسی ارتقاء سے کوئی جھگڑا نہیں. ترقی، ٹیکنالوجی، دولت مند بننا اسلام سے ٹکراؤ نہیں ہے بلکہ اسلام کا تقاضہ ہے. 

زندگی گزارنے کے لیے کامیابی ایک ڈرائیونگ فورس ہے. ہمارے نوجوان ایک جانب مغرب کے ترقی یافتہ اور پر امن معاشرے دیکھتے ہیں اور دوسری جانب اپنے یہاں کے بزرگوں کی دنیا سے اکتاہٹ کی کہانیاں سنتے ہیں اور اپنے ملک میں جہالت، بدامنی اور غربت کی انتہا دیکھتے ہیں تو ان کے اندر کیسے کیسے کافرانہ سوالات اٹھتے ہیں پھر حیرانگی نہیں ہونا چاہیے. 

دنیاوی ترقی کو تکبر سے فرعونیت سے گمراہی سے شرک سے جوڑ دینے کی یہی غلط روایت ہے جو نوجوانوں کو اسلام سے دور کرتی ہے. اسلام میں کنفیوژن پیدا کرتی ہے. 

جبکہ دین اسلام تو ہے ہی دین و دنیا میں کامیابی کی کنجی. 

فائقہ سلمان

Advertisements

Our Saudi King puts us in fire under the Man with the Muslim Ban and a Dictator 

The picture says it all. There is nothing more to Riyadh Summit than this image of this seemingly cult ritual. 

Should we be proud of ourselves that the caretakers of our holiest most land have provided for the Muslim world a new leadership of it’s trio with the ISLAMOPHOBIC Trump and the Egyptian military dictator Sisi.

“By the way” it’s the same racist Trump who introduced the Muslim Ban in his country,  will lead/protect/unite us all Muslims against terrorism. I have fallen short of nouns/adjectives to explain the phenomenon, I admit my inability. To bring Peace in Middle East he shall provide Arms worth millions to SA to counter Iran the Saudi enemy. It’s like you bring a venomous cobra in your house to kill a snake. And you expect the Cobra to spare you. 

And then the third man with his hand on the magical globe, is no other than the Egyptian “Military” Dictator Sisi. Yes the one who opened fire killing thousands of protesters,  and the jailer of forty thousand 

political prisoner’s.  An entire political party which “by the way” is the largest party of Egypt.                                                                              Our Saudi Kingdom could find no other than Sisi, out of almost fifty other heads of Muslim states, to do the cultic honors, making him the third pillar of this grand Islamic nexus. 

To a simpleton like me this is what Riyadh Summit gave us. A love triangle of a Monarch plus a Dictator plus an ISLAMOPHOBIC racist. 

اس تصویر کا واحد سبق Coexistence 

تصاویر بہت کچھ بولتی ہیں. حالانکہ پچھلے دو تین سالوں میں  زرداری صاحب کی سراج الحق صاحب سے غالباً یہ دوسری ملاقات ہے. پھر بھی اس تصویر کے بہت سے رخ اور پس منظر ہیں. 

  ایک رخ میڈیا کی توپوں کا ہے. اپنے پرائے جماعت اسلامی پر اعتراض اٹھا رہے ہیں کہ کرپشن کے خلاف جہاد کا علم بلند کرنے والے کرپشن  کے بادشاہ کے ساتھ خوش گپیاں کیسے منا رہے ہیں. مگر میری حیرت کا تعلق پیپلز پارٹی سے بھی ہے. 

 

اس تصویر کے پس منظر میں بےنظیر بھٹو صاحبہ کی تصویر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق صاحب کے سر پر نظر آ رہی ہے ہی. شہید بے نظیر  آج زندہ ہوتیں تو نہ یہ تصویر ہوتی نہ تصویر کے اندر انکی تصویر ہوتی. یہ ہے اس تصویر کا حیران کن رخ .  کم از کم ہمیں تو یہی یاد ہے کہ جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کی پرانی دشمنی  کا تعلق ان دونوں کے اپنے اپنے اٹل نظریات سے تھا. 

  ممکن ہے کہ بی بی کے بچے اس میل ملاپ کو دل سے  قبول نہ کرتے ہوں مگر سیاست میں کوئی چیز ناممکن نہیں اور ہونی بھی نہیں چاہیے. یہ اس تصویر کا ایک پیغام بھی ہے. 

 مگر اس تصویر کا جو نہایت مثبت رخ میں دیکھ رہی ہوں  وہ ہے Lessons Learnt of Coexistence. 

 لبرل آزاد خیال پارٹی اور مذہبی اسلام پسند پارٹی کا میل ملاپ. اس میٹنگ کی وجہ کیا تھی اور اسکا نتیجہ کیا ہوگا، یہ اہم نہیں.

  ہماری نسل نے پاکستان میں ایک دوسرے کے لیے عدم برداشت کا ایسا دور دیکھا جس کا فائدہ صرف  کرپشن اور شدت پسندی نے اٹھایا. ایک دوسرے کے لیے عدم برداشت کا عالم یہ ہے کہ لبرل سیکولرز مذہب کو ریاست کے معاملات کے قریب بھی نہیں دیکھنا چاہتے اور سیاست کے میدان میں سے اسکا لینا دینا ختم کر دینا چاہتے ہیں.  اور دوسری  جانب مذہبی نظریہ یہ ہے کہ پاکستان بنا ہی اسلام کے لیے تھا. اس سے لبرلز کا کیا لینا دینا. 

اس تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ تو لبرلز اس ملک سے جاتے دکھائی دے رہے ہیں اور نہ ہی اسلام پسند جن کی جڑیں عوام کے اندر ہیں. No body is going anywhere. We are all here to stay. 

پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے لیڈر ذرا ماضی کو یاد کریں اور آج دیکھیں کہ قدرت نے آپکو ایک ہی کمرے میں بٹھا ہی دیا. اس تصویر کا یہی سبق ہے. یہ ملک چلانے کے لیے سیاستدانوں کو درمیانی رستے بنانے ہوں گے. انہیں  ساتھ مل جل کر ملک چلانا سیکھنا ہو گا. انہیں اپنے نظریات میں ایک دوسرے کے لیے جگہ بنانا ہی ہو گی. 

  ایک دوسرے کو ‘ختم’ کر دینے کی خواہش خود ہمارے اپنے لیے نقصان دہ ہے. اس بات کو پیپلز پارٹی کے لبرلز سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے کہ “مذہب کا سیاست سے کیا تعلق” ایک نعرہ تو ہو سکتا ہے مگر پاکستان کے سیاسی میدان سے اسلام پسندی کا خاتمہ  فی الحال ممکن نہیں ہے. اسلام پسندی کو دیوار سے لگانے کی کوششوں نے دنیا بھر میں شدت پسندی اور دہشت گردی کو ہوا دی. 

اسی طرح اس بات کو جماعت اسلامی سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے جو آج سیاسی میدان میں بہت پیچھے رہ گئی یہاں تک کہ اس رویے سے جماعت اسلامی کے اپنے ہزاروں تربیت یافتہ دوسری جماعتوں کے لیڈر اور ووٹر بن گئے 

We have to bridge gaps. We have to find middle grounds. We have to learn to coexist. That is the only way forward for PAKISTAN. 

Iڈان لیکس شہزادی مریم کی جیت نہیں 

آج پاک فوج مشرف کی غلطیوں کو درست کرتے کرتے پاکستان کو دنیا میں اس مقام پر لے آئی ہے کہ پاکستان دنیا کی آنکھ میں بری طرح چبھ رہا ہے. 

 Fact of the matter is 

کہ یہ سب کیانی دور میں زرداری جیسے ایجنٹ اور راحیل شریف دور میں نواز شریف جیسے بھارت ‘نواز’ کی جمہوری ناک کے نیچے کیا گیا. ورنہ یہ کب جرات کر سکتے تھے کہ پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو . 

پاکستان میں فوج کا ہمیشہ سے اپر ہینڈ رہا ہے اور فی الحال یہ ایسے ہی رہے گا.درست یا نہیں مگر حقیقت یہی ہے.  ڈان لیکس سے شہزادی مریم کی جیت ثابت نہیں ہوتی. اور پھر جب آرمی ان کرپٹ سیاستدانوں کے بازو مروڑ کر اپنی من مانی کر لیتی ہے تو پھر سیاسی تصادم  کی کیا ضرورت ہے. یہ گیم بھی فوج نے مشرف کے بعد سیکھی. 
اب یہ ڈان لیکس والا معاملہ اس ہائپ پر کیوں  پہنچایا گیا کہ سب کو یہ سبق یاد دلا دیا جائے آرمی کو للکارنا خالہ جی کا گھر نہیں ورنہ اس وجہ سے حکومت کی ایسی کی تیسی ہو جائے یہ بچگانہ سوچ ہے. یہ الگ بات ہے کہ اس کی ہینڈلنگ میں بالآخر فوج کی پسپائی نظر آئی. 

ہم چاہتے تو ہیں کہ ملک میں سول ادارے اصولی طور پر فوج کے اوپر ہوں مگر کرپٹ حکمرانوں کے ہاتھوں میں پاکستان نہیں کھیل سکتا. ابھی وہ وقت نہیں آیا. مگر یاد رہے کہ ایک دن وہ وقت آنا بھی ضروری ہے. 

رہی بات جرنیلوں سے توقع کہ وہ اسٹیٹس کو کے خلاف کوئی قدم اٹھائیں تو نہ یہ انکا کام ہے نہ ہی انکی خواہش. جیو اور جینے دو کا زمانہ ہے. چوہدری نثار اور فوج میں ایسی کیا بات ہے کہ لوگ غیر حقیقت مندانہ توقع لگا لیتے ہیں اور پھر مایوس ہوتے ہیں. بحرحال مایوس بہنوں اور بھائیوں کو کچھ یاد دلانا ہے. 

ایک وقت تھا جب امریکہ کے اشاروں پر ملک میں مشرف آپریشن کرتا تھا. مایوسی کا وقت تو وہ تھا. ہم مخالفت کرتے تھے. عمران خان کو طالبان خان جبکہ گو امریکہ گو کہنے والی جماعت اسلامی کو دہشت گردوں کا ساتھی کہا جاتا تھا. اب آپریشنوں کی لعنت ہمارے گلے ایسے پڑی ہے کہ ان آپریشنز میں ہم جیسے بھی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں. کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ فوج نے مشرف کے بعد اپنا قبلہ درست کیا. یہ ڈان لیکس کی مچھر کے کاٹے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں. 

فوج ہماری محافظ ہے اور ہم اپنی فوج کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں. مشرف کے آپریشن نام نہاد لبرلز  کو تب بھی خوش نہ کر پائے. تب بھی یہی نام نہاد لبرلز نیوکلیئر پروگرام کو رول بیک کرنے کی باتیں کرتے تھے جب مشرف ڈو مور آپریشن کیا کرتا. میڈیا میں آئی ایس آئی کے بارے میں ایسے بات ہوتی جیسے موساد کی بات ہو رہی ہو. اور ہمارا حال یہ تھا کہ ایک طرف ہمیں طالبان کا ساتھی کہا جاتا تھا دوسری جانب ہم ہی نیوکلیئر پروگرام کی نظریاتی حفاظت کرتے تھے. 

ہم نے تو وہ وقت گزارا ہے. یہ ڈان لیکس تو کچھ بھی نہیں. اصل ہار کیا ہوتی ہے ماروی سرمد اور عاصمہ جہانگیر جیسے بھارتی ایجنٹوں سے پوچھیں. پاکستان دوبارہ نہیں ٹوٹ سکا.  

رہی بات نوجوانوں کی مایوسی کی تو اگر آپ اتنی سی بات ذہن نشین کر لیں کہ مقدس صرف پاکستان ہے اور اسکے علاوہ کوئی مقدس گائے نہیں تو آپ دوبارہ ایسی شرمندگی نہیں اٹھائیں گے.

Kenwood Wife Joke is Weird & Loathsome

How utterly stupid!

Wife jokes are funny but this isn’t. Its weird. Our society still hasn’t stooped that low. Why I say so….

I mean definitely a lot of men beat women but no one brags about it. And the sickening reaction of Nawazudin Siddique’s friends is nowhere near reality.

Men hide it and expect their wives to hide it because it is condemned in the open.  Even though some try to justify it through religion and they do get away with it. But still people do not brag about it.

Pakistani ad makers need real writers. Our ads are weird. “Weird” is the word. They’re great in copying sophisticated styles, dresses, sets and filmography but pathetically “weird” in ideas.

My first Blog

That’s me and a student of my school in Sheikhupura. My first Blog should be about me. I have to see how it turns out.
I’m Faiqa Salman. Highly politicised (whatever that means) a very positive person. MBA. Mom of two boys, a teenager and an 11 years old. My husband Salman is a doctor and a very active Philanthropist. 

Let’s see how this blog turns out bcz my first one somehow disappeared. 

Create a website or blog at WordPress.com

Up ↑